سندھ ہائیکورٹ کی حکومت کوڈبل سواری کی پابندی پرنظرثانی کی ہدایت
فائل فوٹوکراچی:سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے متعلق فیصلے پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کردی۔
موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی،جس میں عدالت نے صحافیوں کی ڈبل سواری سے متعلق پابندی پر سندھ حکومت کو نظر ثانی کرنے کی ہدایت کردی۔
درخواست گزار نے کہا کہ ڈبل سواری پر پابندی سے صحافیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، میڈیا کے حالات ایسے ہیں، اسائنمنٹس موٹر سائیکل پر کور کرنے جانا پڑتا ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے اداروں پر ڈبل سواری کی پابندی کے بعد کراچی میں جرائم میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جن تنگ گلیوں میں پولیس کی گاڑی نہیں جا سکتی وہاں موٹر سائیکل پر پولیس اہلکار پیٹرولنگ کرتے تھے۔
فوکل پرسن اے آئی جی لیگل نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو بھی ڈبل سواری پر پابندی کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
فوکل پرسن محکمہ پولیس سندھ نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے محکمہ داخلہ سندھ نے پابندی عائد کی ہے،مجبورا عملدرآمد کررہے ہیں۔
دوران سماعت عدالت نے عدالت نے استفسار کیا کہ جب پبلک ٹرانسپورٹ،رکشہ ٹیکسی بند ہے تو لوگ سفر کس طرح کریں گے؟۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ صحافی ایک اہم طبقہ ہے ،سندھ حکومت کو موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگانے سے پہلے سوچنا چاہیئےتھا۔
ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل ایمرجنسی میں ڈبل سواری کی اجازت ہے، پنجاب اور کے پی کے میں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے ، حکومت سندھ نے پہلے صحافیوں اورخاتون فیملی ممبر کے ساتھ ڈبل سواری پر اجازت دی تھی،عوام کی جانب سے اجازت کا غلط استعمال کیا گیا جس پر دوبارہ پابندی عائد کردی۔
درخواست گزار نے کہا کہ ہم تمام ایس او پی پر عمل کرتے ہیً کسی بھی جگہ جاتے ہے تو وہاں ٹیمپرچر چیک کر کے جانے دیا جاتا ہے، ملکی قوانین اور ایس او پیز عملدرآمد صحافیوں سے زیادہ کوئی بھی نہیں کرتا، سندھ حکومت صحافیوں کی ڈبل سواری پر پابندی ہٹا دیں، صحافی تمام ایس او پیز پر عمل کریں گے۔
عدالت نے سندھ حکومت سے ڈبل سواری پر پابندی کے نوٹیفکیشن کی وضاحت طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ سندھ حکومت اپنے نوٹیفکیشن کا جائز لےکر فیصلے میں نظر ثانی کرے۔
سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق فیصلے پر بھی نظر ثانی کرنے کی ہدایت کی۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔